ویکسی نیشن کی اہمیت
ویکسین کا
تعارف
ویکسین کسے کہتے ہیں ؟ہمارے جسم میں
بیماری پیدا کیے بغیر ہمارے جسم کے حفاظتی نظام کو کسی بیماری کے خلاف لڑنے کے لیے
تیار کرنے کے قابل بنانےکے عمل کو کہتے ہیں۔یہ انسانی جسم کے لیے انتہائی ضروری ہے
جس کے ذریعے ہمارا جسم بیماری سے محفوظ رہتا ہے ۔اس کا بنیادی مقصد بیماری پیدا
کیے بغیر جسم کے حفاظتی نظام کو مضبوط کرنا ہے ۔
ویکسین کی اقسام
ویکسین کی مختلف اقسام ہیں اور ہر قسم کا مقصد بیماریوں کے خلاف ہمارے جسم میں ایک
مضبوط نظام کا قیام ہوتا ہے۔
1. زندہ کمزور ویکسین
یہ جرثوموں کی
کمزور شکل پر مبنی ہوتی ہیں ، مثال کے طور پر جیسے خسرہ ، ممپس اور روبیلا کی ویکسین۔یہ
نظام کو تادیر مضبوط رکھتی ہیں۔
2. غیر فعال ویکسین
یہ کمزور قوت پیدا کرتی ہیں اور ان کی
خوراک کے استعمال کی بار بار ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ یہ ویکسینز مردہ جراثیم پر مشتمل
ہوتی ہیں۔
3. سب یونٹ اور کونجوگیٹ ویکسین
یہ ویکسینز جرثومے کے ایک خاص شکل
(ورژن) کو استعمال کرتی ہیں ، مثال کے طور پر ایچ پی اور ہیمو فیلس انفلوئنزا کی
ویکسین۔
4.
ایم آر این اے ویکسین
جدید
ویکسینز ہیں جو ہمارے جسم کے خلیوں کو اینٹیجن تشکیل دینے کی ہدایت کرتی ہیں، جیسے
کووڈ-19 کی ویکسین۔ جب اینٹیجن جسم میں داخل ہوتا ہے، تو مدافعتی نظام
اینٹی باڈیز (Antibodies)
پیدا کرتا ہے تاکہ اسے پہچانے اور ختم کر
سکے۔ اینٹیجن کا بنیادی کام جسم کو متحرک کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ انفیکشن یا بیماری
کے خلاف مدافعت پیدا کر سکے۔
5. ٹاکسائڈ ویکسین
یہ ٹیٹنس اور ڈیپتھیریا جیسے امراض جو
زہریلے مواد کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ان
کے خلاف استعمال ہوتی ہیں۔
ویکسی نیشن کی اہمیت
ویکسی نیشن کا
مقصد نہ صرف بیماریوں سے ہماری حفاظت بلکہ سماجی طور پر ان بیماریوں کے پھیلاؤ کا
سدباب کرنا بھی ہوتا ہے ۔ویکسی نیشن کی اہمیت درج ذیل نکات سے زیادہ واضح ہو سکے
گی:
- بیماریوں
سے بچاؤ: مہلک بیماریاں جیسے خسرہ، پولیو
اور ٹیٹنس سے بچاؤ کا ذریعہ صرف اور صرف ویکسین ہی ہے۔
- اموات
میں کمی:
اموات کی شرح کو کافی حد تک عالمی سطح پر کم کرنے میں اہم کردار
ادا کرتی ہے۔
- ہرڈ
امیونٹی(Herd Immunity): جب اجتماعیت(کمیونٹی) میں ویکسین
لگوائی جاتی ہے تو اجتماعی مدافعت بھی پیدا ہوتی ہے اور یوں سماجی طور سے ایک
حفاظتی نظام بن جاتا ہے جس سے وہ افراد بھی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں جو
ویکسین نہیں لگواسکتے۔
- صحت
کی معیشت پر اثر:صحت
کے اخراجات کا بوجھ کم کرنے میں ویکسین کا ایک اہم کردار ہے ۔ظاہر ہےجب
بیماریاں کم ہوں گی تو اخراجات بھی کم ہوں گے۔
ممکنہ خطرات
اور ضمنی اثرات
فوائد کے ساتھ ساتھ ہر دوا کی طرح
ویکسین کے بھی کچھ ممکنہ خطرات یا منفی رد عمل ہو تے ہیں جو معمولی نوعیت کے ہی
ہوتے ہیں۔
1.
ہلکے اثرات:
معمولی
بخار ،انجکشن کی جگہ پر زور یا درد اور سرخی مائل ہوجانااور جسمانی تھکن عام
علامات میں سے ہیں۔
شدید الرجک ردعمل
(Anaphylaxis): یہ رد عمل شاذ و نادر ہی ہوتا ہے لیکن
جب ہوتا ہے تواس میں سانس لینے میں دشواری ، چہرے اور گلے میں سوجن یا دل کی دھڑکن
کابے ترتیب ہونایا بڑھ جانا ہوسکتا
ہے۔کچھ افراد میں نیند یا بے ہوشی کی کیفیت بھی طاری ہو سکتی ہے۔
2.
خطرات کی کمی:
ویکسینز
کی تیاری سخت حفاظتی اقدامات کی متقاضی ہوتی ہے اور اس کے استعمال کے بعد بھی اس
کی دیکھ بھال لازمی ہوتی ہے تاکہ اس کو محفو ظ رکھا جاسکے۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ویکسین کے
فوائد اس کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں اور سنگین اثرات تقریباً نہ ہونے کے برابر
ہوتے ہیں۔
حکومتی
اقدامات
ہر حکومت اپنے عوام کو سہولت پہنچانے
کی خاطر ویکسین کی افادعت و اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور متعدد اقدامات کیے جاتے
ہیں:
1. ویکسی نیشن مہمات:
دنیا
بھر میں جس طرح حکومتیں پولیو، خسرہ اور دیگر موذی امراض کے خاتمے کی مہمات چلاتی
ہیں اسی طرح پاکستان میں بھی پولیومہم کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔
2.
مفت ویکسین کی فراہمی:
دنیا
بھرمیں بیشتر ممالک میں اس کی فراہمی بالکل مفت کی جاتی ہے جس سے ہر طبقے کے افراد
تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔
3. آگاہی پروگرام:
عوام
میں اس کی اہمیت اجگر کرنے کے لیے حکومت تدریسی مقامات یعنی اسکول ، اسپتال اور
میڈیا کے دیگر ذرائع کا استعمال کرتی ہے۔
4.
ویکسین مراکز کا قیام:
عوام
کی سہولت کے پیش نظر دیہی اور شہری علاقوں میں ویکسی نیشن کے مراکز اسی لیے بنائے
جاتے ہیں کہ ویکسین تک ہر شخص کی پہنچ باآسانی ہو سکے ۔
نتیجہ
ویکسین
صرف کمیونٹی ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی
حفاظت کا ذریعہ ہے جس کے بے شما ر فوائد ہیں۔حکومت تو اپنے تمام تر ذرائع سے عوام
میں اس کی آگاہی کی مہم چلاتی ہےمگر عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ان
سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں بلکہ اپنی کمیونٹی اور معاشرے کو بیماریوں سے پاک معاشرہ
بنائیں۔
اپنے بچے کے صحت مند
مستقبل کو یقینی بنائیں
ہر طرح کی ویکسینز خواہ
بالغ ہوں یا نابالغ ، بچے ہوں یا بڑے ان کے لیے محفوظ ہیں۔ ان کے استعمال
کرنے کی منظوری
دینے سے پہلےبہت
احتیاط سے اس بات کی تصدیق کر لی جاتی ہے کہ ان سے بچوں اور بڑوں کوکسی قسم کا
نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ بچوں میں ان کے استعمال کے بعد بھی ایف ڈی اے اس بات کی
مسلسل نگرانی اور تصدیق کرتا ہے کہ جن بچوں
کو یہ ویکسین لگائی گئی ہے یا لگائی جا رہی ہے وہ ہر طرح سے صحت مند ہیں۔
ویکسینز کسی خاص جرثومے کو جو تقریباً
مردہ یا غیر فعال ہوتا ہے جسم میں داخل کرتی ہیں جن سےبدن کا حفاظتی نظام متحرک ہو
جاتا ہے اور اس ویکسینز کے ذریعے جسم بیماری سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنے کے
قابل ہو جاتا ہے ۔
ویکسینز جسم کو یہ سیکھنے میں مدد دیتی ہیں کہ بیماری سے کیسے بچاؤ کرنا ہے ،کیونکہ جسم نے
انفیکشن پہلے ہی دیکھا ہوا ہوتا ہے تووہ جانتا ہے کہ اسے کیسے لڑنا ہے۔اسی وجہ سے
آپ کا بچہ شدید بیما ر ہونے سے بچ جاتا ہے
اور یہ کام ویکسین کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی ادارو ں کے نمائندے اشتہارات کے
مختلف ذرائع سے اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے
ہیں کہ ویکسین لازماً لگوانی چاہیے ۔
ایسے بچے
مینینجائٹس، ڈپتھیریا، ٹیٹنس، خسرہ جیسی بیماریوں کی زد پر ہوتے ہیں جن کے ویکسین
نہ لگی ہواس لیے اپنے بچے کو لازماً ویکسین لگوائیں کیونکہ سماجی میل ملاپ میں اس
بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ بچے ان افراد سے ملتے ہوں جو ان بیماریوںکا نشانہ بنے
ہوں اور پھر یہ بیماری آپ کے بچے میں بھی منتقل ہو سکتی ہے ۔
ویکسینز زیادہ تر بیماریوں سے بچاؤ کرتی ہیں اور ان کے
استعمال پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں ہوتا تاہم آپ کے بچے میں کسی سنگین الرجک رد عمل
کا احساس ہوتے ہی آپ اپنے معالج سے فوری رجوع کریں۔ایف ڈی اے کی زیر نگرانی اپنے
بچے کو لازمی ویکسین لگوائیں۔
0 Comments